23 فروری 2012 - 20:30

سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں حکومت مخالف احتجاجات میں شدت پیدا ہونے کے بعد اس ملک کی وزارت داخلہ نے مظاہرین کا قتل عام جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔

ابنا: یہ دھمکی ایسی حالت میں دی گئی ہے کہ جب سعودی عرب کی اسپیشل فورسز کے کمانڈر خالد العربی نے سعودی الیوم جریدے کو انٹرویو دیتے ہوۓ ملک کے مشرقی علاقوں خصوصا قطیف میں کۓ جانے والے پرامن اعتراضات کو دہشتگردانہ اقدام سے تعبیر کیا تھا اور کہا تھا کہ قطیف اور عوامیہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ سڑکوں پر کی جانے والے دہشتگردی ہے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے بھی ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا ہے کہ قطیف کے تمام باشندے تخریب کار ہیں اور ان کو سزا ملنی چاہۓ۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ اس بہانے کے ساتھ کہ مشرقی علاقوں کے پرامن مظاہرے ملکی سلامتی کے لۓ خطرہ ہیں ، مشرقی علاقوں کے عوام کے قتل عام کا جواز ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ دریں اثناء مشرقی علاقوں کے علماء سمیت اس ملک کی چار سو پچھتر شخصیات نے ایک بیان جاری کر کے اس ملک پر حکمفرما ظلم و امتیازی سلوک کے نظام کے خلاف مظاہرین پر آل سعود کے تشدد کی مذمت کی ہے۔

اس بیان میں قطیف کے باشندوں کے قتل عام ، بے گناہوں کی گرفتاریوں اور قطیف شہر کے مختلف علاقوں میں چیک پوسٹیں قائم کۓ جانے کو سعودی عرب میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں سے تعبیر کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز نے مشرقی علاقوں خصوصا قطیف شہر میں مظاہرین پر حملے کر کے ان میں سے بعض کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور متعدد کو زخمی کردیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ آل سعود کی حکومت نے راۓ عامہ کے دباؤ سے بچنے کے لۓ مظاہرین کے خلاف غلط پروپیگنڈہ شروع کردیا ہے۔ آل سعود کی حکومت ذرائع ابلاغ کے ذریعے حکومت مخالف مظاہروں کو ایک فرقے کے مطالبات کے لۓ نکالے جانے والے جلوس ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس ملک کے حکمران ٹولے سے وابستہ جرائد نے مشرقی علاقوں میں پرامن مظاہروں میں شرکت کرنے والوں کو خطرناک مجرم قرار دیا ہے حالانکہ مشرقی علاقوں کے باشندے سالہا سال سے اس ملک کی حکومت کے ظلم و ستم کا شکار ہیں اور خطے کے حالات سے متاثر ہو کر گزشتہ ایک سال کے دوران اپنے قانونی حقوق کی بازیابی کے لۓ کوشاں ہیں۔

لیکن ان کے مطالبات پورے کۓ جانے کے بجاۓ ان پر تشدد اور ان کو گولیوں سے چھلنی کیاجارہا ہے۔سعودی عرب کے عالم دین شیخ غازی الشبیب نے مشرقی علاقوں کے مظاہرین پر آل سعود کے تشدد کو اس حکومت کی بوکھلاہٹ کی علامت قرار دیا ہے۔ انھوں نے سعودی عرب کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موجودہ گھٹن کے ماحول اور بحران کے خاتمے کے لۓ مثبت راہ حل تلاش کریں۔ الشبیب نے تاکید کی ہے کہ سعودی عرب کے بعض عہدیدار اس ملک کے بحران کو سیکورٹی کا بحران قرار دے رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک سیاسی بحران ہے اور اس کا سبب وہ غلطیاں ہی جن کا ارتکاب اس ملک کے حکام نے کیا ہے۔ ........ /169